قصیدہ بردہ شریف
قصیدہ بردہ شریف وہ مشہور نعتیہ قصیدہ ہے جسے امام شرف الدین البوصیری نے تصنیف کیا، جو اسلامی تاریخ کے عظیم ترین نعت گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ اس قصیدے کا مکمل نام الکواکب الدریۃ فی مدح خیر البریۃ (عربی: الكواكب الدرية في مدح خير البرية؛ ”خیرِ خلائق کی مدح میں درخشاں ستارے“) ہے۔ 160 اشعار پر مشتمل اس قصیدے میں نبی کریم محمد ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ، فضائل، معجزات اور بلند مرتبے کی مدح بیان کی گئی ہے۔ سات صدیوں سے زائد عرصے سے پوری اسلامی دنیا میں اسے نہایت عقیدت و محبت کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، اور آج بھی یہ اسلامی روایت کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے، پڑھائے جانے والے اور حفظ کیے جانے والے نعتیہ قصائد میں شمار ہوتا ہے۔
کم دکھائیںبردہ
ثُمَّ الصَّلَاةُ عَلَى الْمُخْتَارِ فِي الْقِدَمِ ❁
پھر ازل سے برگزیدہ نبی پر درود و سلام ہو۔
لازمہ
عَلَى حَبِيبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ ❁
جو تمام مخلوق میں سب سے افضل ہیں۔
باب اول
عشق و محبت اور فراق کی شکایت
مَزَجْتَ دَمْعًا جَرَى مِنْ مُقْلَةٍ بِدَمِ ❁
تم نے آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کو خون سے ملا دیا ہے؟
وَأَوْمَضَ الْبَرْقُ فِي الظَّلْمَاءِ مِنْ إِضَمِ ❁
اور تاریکی میں اِضم کی جانب سے بجلی چمکی ہے؟
وَمَا لِقَلْبِكَ إِنْ قُلْتَ اسْتَفِقْ يَهِمِ ❁
اور تمہارے دل کو کیا ہوا کہ جب اسے سنبھلنے کو کہتے ہو تو اور بے قرار ہوجاتا ہے؟
مَا بَيْنَ مُنْسَجِمٍ مِنْهُ وَمُضْطَرِمِ ❁
جبکہ اس کے بہتے آنسو اور سلگتا ہوا دل اس پر گواہ ہیں؟
وَلَا أَرِقْتَ لِذِكْرِ الْبَانِ وَالْعَلَمِ ❁
اور بان کے درخت اور عَلَم کے ذکر سے تمہاری نیند نہ اڑتی۔
بِهِ عَلَيْكَ عُدُولُ الدَّمْعِ وَالسَّقَمِ ❁
جب تمہارے آنسو اور بیماری جیسے دو عادل گواہ تمہارے خلاف گواہی دے چکے ہیں؟
مِثْلَ الْبَهَارِ عَلَى خَدَّيْكَ وَالْعَنَمِ ❁
جو زرد پھول اور سرخ عنم کی مانند ہیں۔
وَالْحُبُّ يَعْتَرِضُ اللَّذَّاتِ بِالْأَلَمِ ❁
کیونکہ محبت ہر لذت کو درد سے ملا دیتی ہے۔
مِنِّي إِلَيْكَ وَلَوْ أَنْصَفْتَ لَمْ تَلُمِ ❁
اگر تو انصاف کرتا تو مجھے ملامت نہ کرتا۔
عَنِ الْوُشَاةِ وَلَا دَائِي بِمُنْحَسِمِ ❁
اور نہ ہی میری بیماری ختم ہونے والی ہے۔
إِنَّ الْمُحِبَّ عَنِ الْعُذَّالِ فِي صَمَمِ ❁
کیونکہ عاشق ملامت کرنے والوں کی بات سننے سے بہرا ہوتا ہے۔
وَالشَّيْبُ أَبْعَدُ فِي نُصْحٍ عَنِ التُّهَمِ ❁
حالانکہ بڑھاپے کی نصیحت ہر تہمت سے سب سے زیادہ پاک ہے۔
باب دوم
خواہشاتِ نفس سے خبردار کرنے کے بیان میں
مِنْ جَهْلِهَا بِنَذِيرِ الشَّيْبِ وَالْهَرَمِ ❁
سفید بالوں اور بڑھاپے کی تنبیہ سے بھی نصیحت حاصل نہ کرسکا۔
ضَيْفٍ أَلَمَّ بِرَأْسِي غَيْرَ مُحْتَشِمِ ❁
اس مہمان کے لیے جو بے تکلف میرے سر پر آ اترا۔
كَتَمْتُ سِرًّا بَدَا لِي مِنْهُ بِالْكَتَمِ ❁
تو خضاب کے ذریعے اس ظاہر ہونے والے راز کو چھپا لیتا۔
كَمَا يُرَدُّ جِمَاحُ الْخَيْلِ بِاللُّجُمِ ❁
جیسے سرکش گھوڑے کو لگام کے ذریعے قابو کیا جاتا ہے؟
إِنَّ الطَّعَامَ يُقَوِّي شَهْوَةَ النَّهِمِ ❁
کیونکہ کھانا حریص کی بھوک کو اور بڑھاتا ہے۔
حُبِّ الرَّضَاعِ وَإِنْ تَفْطِمْهُ يَنْفَطِمِ ❁
دودھ پینے کی عادت پر جوان ہوجائے گا، اور اگر دودھ چھڑا دو تو چھوٹ جائے گا۔
إِنَّ الْهَوَى مَا تَوَلَّى يُصْمِ أَوْ يَصِمِ ❁
کیونکہ خواہش جب غالب آجائے تو ہلاک یا رسوا کردیتی ہے۔
وَإِنْ هِيَ اسْتَحْلَتِ الْمَرْعَى فَلَا تُسِمِ ❁
اور اگر اسے چراگاہ خوشگوار لگنے لگے تو اسے آزاد نہ چھوڑو۔
مِنْ حَيْثُ لَمْ يَدْرِ أَنَّ السُّمَّ فِي الدَّسَمِ ❁
اور انسان کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ چکنائی میں زہر چھپا ہوا ہے۔
فَرُبَّ مَخْمَصَةٍ شَرٌّ مِنَ التُّخَمِ ❁
کیونکہ بسا اوقات بھوک، شکم سیری سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔
مِنَ الْمَحَارِمِ وَالْزَمْ حِمْيَةَ النَّدَمِ ❁
اور ندامت کے ساتھ گناہوں سے پرہیز کو لازم پکڑو۔
وَإِنْ هُمَا مَحَضَاكَ النُّصْحَ فَاتَّهِمِ ❁
اور اگر وہ تمہیں خالص نصیحت بھی کریں تو ان پر اعتماد نہ کرو۔
فَأَنْتَ تَعْرِفُ كَيْدَ الْخَصْمِ وَالْحَكَمِ ❁
کیونکہ تم فریق اور حَکم دونوں کی چال سے واقف ہو۔
لَقَدْ نَسَبْتُ بِهِ نَسْلًا لِذِي عُقُمِ ❁
کیونکہ ایسا کرکے میں نے بانجھ شخص کی طرف اولاد منسوب کردی۔
وَمَا اسْتَقَمْتُ فَمَا قَوْلِي لَكَ اسْتَقِمِ ❁
اور خود سیدھا نہ ہوا، تو پھر تم سے یہ کیسے کہوں کہ سیدھے ہوجاؤ؟
وَلَمْ أُصَلِّ سِوَى فَرْضٍ وَلَمْ أَصُمِ ❁
نہ فرض کے سوا نماز پڑھی اور نہ روزہ رکھا۔
باب سوم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں
أَنِ اشْتَكَتْ قَدَمَاهُ الضُّرَّ مِنْ وَرَمِ ❁
یہاں تک کہ ورم کے باعث آپ کے قدموں نے تکلیف کی شکایت کی۔
تَحْتَ الْحِجَارَةِ كَشْحًا مُتْرَفَ الْأَدَمِ ❁
اور نرم و نازک پہلو پر پتھر باندھ لیے۔
عَنْ نَفْسِهِ فَأَرَاهَا أَيَّمَا شَمَمِ ❁
مگر آپ نے انہیں اپنی بلند ہمتی دکھا دی۔
إِنَّ الضَّرُورَةَ لَا تَعْدُو عَلَى الْعِصَمِ ❁
حالانکہ ضرورت بھی معصوم ہستیوں پر غالب نہیں آسکتی۔
لَوْلَاهُ لَمْ تُخْرَجِ الدُّنْيَا مِنَ الْعَدَمِ ❁
جن کے بغیر دنیا کو عدم سے وجود میں نہ لایا جاتا؟
ـنِ وَالْفَرِيقَيْنِ مِنْ عُرْبٍ وَمِنْ عَجَمِ ❁
اور عرب و عجم، سب کے سردار ہیں۔
أَبَرَّ فِي قَوْلِ لَا مِنْهُ وَلَا نَعَمِ ❁
اور ”نہیں“ یا ”ہاں“ کہنے میں کوئی آپ سے بڑھ کر سچا نہیں۔
لِكُلِّ هَوْلٍ مِنَ الْأَهْوَالِ مُقْتَحَمِ ❁
ہر اس ہولناک مصیبت کے وقت جس کا سامنا ہوگا۔
مُسْتَمْسِكُونَ بِحَبْلٍ غَيْرِ مُنْفَصِمِ ❁
ایسی رسی کو تھامنے والے ہیں جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں۔
وَلَمْ يُدَانُوهُ فِي عِلْمٍ وَلَا كَرَمِ ❁
اور علم و کرم میں کوئی بھی آپ کے مرتبے تک نہ پہنچ سکا۔
غَرْفًا مِنَ الْبَحْرِ أَوْ رَشْفًا مِنَ الدِّيَمِ ❁
کوئی سمندر سے چلو بھر پانی لیتا ہے اور کوئی مسلسل برسنے والی بارش سے چند قطرے۔
مِنْ نُقْطَةِ الْعِلْمِ أَوْ مِنْ شَكْلَةِ الْحِكَمِ ❁
کوئی علم کے ایک نقطے پر اور کوئی حکمت کی ایک علامت پر۔
ثُمَّ اصْطَفَاهُ حَبِيبًا بَارِئُ النَّسَمِ ❁
پھر جانوں کے پیدا کرنے والے نے آپ کو اپنا محبوب منتخب فرمایا۔
فَجَوْهَرُ الْحُسْنِ فِيهِ غَيْرُ مُنْقَسِمِ ❁
کیونکہ آپ میں حسن کا جوہر تقسیم ہونے والا نہیں۔
وَاحْكُمْ بِمَا شِئْتَ مَدْحًا فِيهِ وَاحْتَكِمِ ❁
اور اس کے سوا آپ کی مدح میں جو چاہو کہو اور فیصلہ کرو۔
وَانْسُبْ إِلَى قَدْرِهِ مَا شِئْتَ مِنْ عِظَمِ ❁
اور آپ کے مرتبے کی طرف جس عظمت کو چاہو منسوب کرو۔
حَدٌّ فَيُعْرِبَ عَنْهُ نَاطِقٌ بِفَمِ ❁
جسے کوئی بولنے والا اپنے منہ سے بیان کرسکے۔
أَحْيَا اسْمُهُ حِينَ يُدْعَى دَارِسَ الرِّمَمِ ❁
تو آپ کا نام پکارے جانے پر بوسیدہ ہڈیاں بھی زندہ ہوجاتیں۔
حِرْصًا عَلَيْنَا فَلَمْ نَرْتَبْ وَلَمْ نَهِمِ ❁
ہم پر شفقت کے باعث، لہٰذا نہ ہم شک میں پڑے اور نہ حیران ہوئے۔
فِي الْقُرْبِ وَالْبُعْدِ فِيهِ غَيْرُ مُنْفَحِمِ ❁
پس قریب و دور سے دیکھنے والا ہر شخص آپ کی حقیقت کے ادراک سے عاجز ہے۔
صَغِيرَةً وَتُكِلُّ الطَّرْفَ مِنْ أَمَمِ ❁
مگر قریب سے نگاہیں اس کا احاطہ کرنے سے عاجز ہوجاتی ہیں۔
قَوْمٌ نِيَامٌ تَسَلَّوْا عَنْهُ بِالْحُلُمِ ❁
جو سوئے ہوئے ہیں اور خواب دیکھ کر حقیقت سے بے نیاز ہوگئے ہیں؟
وَأَنَّهُ خَيْرُ خَلْقِ اللَّهِ كُلِّهِمِ ❁
اور یہ کہ آپ اللہ کی تمام مخلوق میں سب سے افضل ہیں۔
فَإِنَّمَا اتَّصَلَتْ مِنْ نُورِهِ بِهِمِ ❁
وہ سب آپ کے نور ہی سے ان تک پہنچے۔
يُظْهِرْنَ أَنْوَارَهَا لِلنَّاسِ فِي الظُّلَمِ ❁
جو تاریکیوں میں لوگوں کے لیے اسی کے انوار ظاہر کرتے ہیں۔
بِالْحُسْنِ مُشْتَمِلٍ بِالْبِشْرِ مُتَّسِمِ ❁
جو حسن سے آراستہ اور خوش روئی سے متصف ہے۔
وَالْبَحْرِ فِي كَرَمٍ وَالدَّهْرِ فِي هِمَمِ ❁
سخاوت میں سمندر اور بلند ہمتی میں زمانے کی مانند ہیں۔
فِي عَسْكَرٍ حِينَ تَلْقَاهُ وَفِي حَشَمِ ❁
گویا لشکر اور خدم و حشم کے درمیان ہوں۔
مِنْ مَعْدِنَيْ مَنْطِقٍ مِنْهُ وَمُبْتَسَمِ ❁
آپ کے کلام اور تبسم کے دونوں معدنوں سے نکلتے ہیں۔
طُوبَى لِمُنْتَشِقٍ مِنْهُ وَمُلْتَثِمِ ❁
خوش نصیب ہے وہ جو اسے سونگھے اور بوسہ دے۔
باب چہارم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کے بیان میں
يَا طِيبَ مُبْتَدَإٍ مِنْهُ وَمُخْتَتَمِ ❁
کیا ہی پاکیزہ آپ کی ابتدا اور کیا ہی پاکیزہ آپ کی انتہا ہے۔
قَدْ أُنْذِرُوا بِحُلُولِ الْبُؤْسِ وَالنِّقَمِ ❁
کہ انہیں مصیبتوں اور عذاب کے نزول سے خبردار کردیا گیا ہے۔
كَشَمْلِ أَصْحَابِ كِسْرَى غَيْرَ مُلْتَئِمِ ❁
جیسے کسریٰ کے ساتھیوں کا شیرازہ بکھرنے والا تھا۔
عَلَيْهِ وَالنَّهْرُ سَاهِي الْعَيْنِ مِنْ سَدَمِ ❁
اور دریا بھی افسوس کے مارے بے آب سا ہوگیا۔
وَرُدَّ وَارِدُهَا بِالْغَيْظِ حِينَ ظَمِي ❁
اور پیاسا آنے والا غصے کے ساتھ واپس لوٹا۔
حُزْنًا وَبِالْمَاءِ مَا بِالنَّارِ مِنْ ضَرَمِ ❁
اور پانی میں آگ کی سوزش پیدا ہوگئی۔
وَالْحَقُّ يَظْهَرُ مِنْ مَعْنًى وَمِنْ كَلِمِ ❁
اور حق اپنے معنی اور کلمات دونوں سے ظاہر ہورہا تھا۔
تُسْمَعْ وَبَارِقَةُ الْإِنْذَارِ لَمْ تُشَمِ ❁
نہ انہوں نے سنا اور نہ تنبیہ کی چمک کو محسوس کیا۔
بِأَنَّ دِينَهُمُ الْمُعْوَجَّ لَمْ يَقُمِ ❁
کہ ان کا ٹیڑھا دین اب قائم نہیں رہ سکے گا۔
مُنْقَضَّةٍ وَفْقَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ صَنَمِ ❁
جیسے زمین پر بت ایک ایک کرکے گرتے جارہے ہوں۔
مِنَ الشَّيَاطِينِ يَقْفُو إِثْرَ مُنْهَزِمِ ❁
اور ایک بھاگنے والا دوسرے کے پیچھے دوڑتا گیا۔
أَوْ عَسْكَرٌ بِالْحَصَى مِنْ رَاحَتَيْهِ رُمِي ❁
یا وہ لشکر جس پر آپ کی دونوں ہتھیلیوں سے کنکریاں پھینکی گئی تھیں۔
نَبْذَ الْمُسَبِّحِ مِنْ أَحْشَاءِ مُلْتَقِمِ ❁
جیسے یونس علیہ السلام کو تسبیح کے بعد مچھلی کے پیٹ سے باہر ڈال دیا گیا۔
باب پنجم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کے بیان میں
تَمْشِي إِلَيْهِ عَلَى سَاقٍ بِلَا قَدَمِ ❁
وہ بغیر قدموں کے اپنے تنوں پر چلتے ہوئے آپ کے پاس آئے۔
فُرُوعُهَا مِنْ بَدِيعِ الْخَطِّ بِاللَّقَمِ ❁
خوبصورت خط کی سطریں کھینچ دی ہوں۔
تَقِيهِ حَرَّ وَطِيسٍ لِلْهَجِيرِ حَمِي ❁
اور دوپہر کی شدید گرمی سے آپ کو بچاتا۔
مِنْ قَلْبِهِ نِسْبَةً مَبْرُورَةَ الْقَسَمِ ❁
آپ کے قلبِ مبارک سے ایک ایسی نسبت ہے جو قسم کو سچا کردیتی ہے۔
وَكُلُّ طَرْفٍ مِنَ الْكُفَّارِ عَنْهُ عَمِي ❁
اس سے کفار کی ہر نگاہ اندھی کردی گئی۔
وَهُمْ يَقُولُونَ مَا بِالْغَارِ مِنْ أَرِمِ ❁
اور کفار کہتے رہے کہ غار میں کوئی شخص نہیں۔
خَيْرِ الْبَرِيَّةِ لَمْ تَنْسُجْ وَلَمْ تَحُمِ ❁
ورنہ نہ مکڑی جالا بنتی اور نہ کبوتر منڈلاتا۔
مِنَ الدُّرُوعِ وَعَنْ عَالٍ مِنَ الْأُطُمِ ❁
اور بلند قلعوں سے بے نیاز کردیا۔
إِلَّا وَنِلْتُ جِوَارًا مِنْهُ لَمْ يُضَمِ ❁
مجھے آپ کی ایسی پناہ ملی کہ پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہوسکی۔
إِلَّا اسْتَلَمْتُ النَّدَى مِنْ خَيْرِ مُسْتَلَمِ ❁
میں نے بہترین عطا کرنے والے سے بخشش پائی۔
قَلْبًا إِذَا نَامَتِ الْعَيْنَانِ لَمْ يَنَمِ ❁
آنکھوں کے سو جانے کے باوجود کبھی نہیں سوتا۔
فَلَيْسَ يُنْكَرُ فِيهِ حَالُ مُحْتَلِمِ ❁
لہٰذا خواب میں آپ کو ملنے والی وحی کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
وَلَا نَبِيٌّ عَلَى غَيْبٍ بِمُتَّهَمِ ❁
اور نبی پر غیب کے بارے میں تہمت نہیں لگائی جاسکتی۔
وَأَطْلَقَتْ أَرِبًا مِنْ رِبْقَةِ اللَّمَمِ ❁
اور کتنے ہی گرفتارانِ بلا کو جنون کی زنجیروں سے آزاد کردیا۔
حَتَّى حَكَتْ غُرَّةً فِي الْأَعْصُرِ الدُّهُمِ ❁
یہاں تک کہ وہ تاریک زمانوں میں روشن پیشانی کی مانند ہوگیا۔
سَيْبٌ مِنَ الْيَمِّ أَوْ سَيْلٌ مِنَ الْعَرِمِ ❁
کہ وادیوں میں سمندر بہہ رہا ہے یا عرم کا سیلاب آگیا ہے۔
باب ششم
قرآنِ کریم کی عظمت اور مدح کے بیان میں
ظُهُورَ نَارِ الْقِرَى لَيْلًا عَلَى عَلَمِ ❁
جیسے رات میں بلند مقام پر مہمان نوازی کی آگ روشن دکھائی دیتی ہے۔
وَلَيْسَ يَنْقُصُ قَدْرًا غَيْرَ مُنْتَظِمِ ❁
لیکن اگر پرویا نہ بھی جائے تو اس کی قدر کم نہیں ہوتی۔
مَا فِيهِ مِنْ كَرَمِ الْأَخْلَاقِ وَالشِّيَمِ ❁
آپ کے کریمانہ اخلاق اور اعلیٰ عادات کی حقیقت تک؟
قَدِيمَةٌ صِفَةُ الْمَوْصُوفِ بِالْقِدَمِ ❁
اور اس ذات کی صفت ہونے کے اعتبار سے قدیم ہیں جو ازل سے ہے۔
عَنِ الْمَعَادِ وَعَنْ عَادٍ وَعَنْ إِرَمِ ❁
قیامت، عاد اور ارم کے واقعات کی۔
مِنَ النَّبِيِّينَ إِذْ جَاءَتْ وَلَمْ تَدُمِ ❁
کیونکہ دوسرے انبیاء کے معجزات آئے اور پھر باقی نہ رہے۔
لِذِي شِقَاقٍ وَمَا يَبْغِينَ مِنْ حَكَمِ ❁
اور نہ انہیں کسی فیصلے کرنے والے کی حاجت ہے۔
أَعْدَى الْأَعَادِي إِلَيْهَا مُلْقِيَ السَّلَمِ ❁
سخت ترین دشمن بھی لڑائی سے لوٹ کر ان کے سامنے سرِ تسلیم خم کرگیا۔
رَدَّ الْغَيُورِ يَدَ الْجَانِي عَنِ الْحُرَمِ ❁
جیسے غیرت مند شخص مجرم کا ہاتھ اپنے اہلِ حرم کی طرف بڑھنے سے روک دیتا ہے۔
وَفَوْقَ جَوْهَرِهِ فِي الْحُسْنِ وَالْقِيَمِ ❁
بلکہ حسن اور قدر میں اس کے موتیوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔
وَلَا تُسَامُ عَلَى الْإِكْثَارِ بِالسَّأَمِ ❁
اور کثرت سے دہرانے کے باوجود ان سے کبھی اکتاہٹ نہیں ہوتی۔
لَقَدْ ظَفِرْتَ بِحَبْلِ اللَّهِ فَاعْتَصِمِ ❁
تم نے اللہ کی رسی پا لی ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو۔
أَطْفَأْتَ حَرَّ لَظَى مِنْ وِرْدِهَا الشَّبِمِ ❁
تو ان کے ٹھنڈے چشمے سے اس آگ کی تپش بجھا دو گے۔
مِنَ الْعُصَاةِ وَقَدْ جَاؤُوهُ كَالْحُمَمِ ❁
جو اس کے پاس کوئلے کی طرح سیاہ ہوکر آئیں گے۔
فَالْقِسْطُ مِنْ غَيْرِهَا فِي النَّاسِ لَمْ يَقُمِ ❁
کیونکہ لوگوں میں ان کے بغیر عدل قائم نہیں ہوسکتا۔
تَجَاهُلًا وَهْوَ عَيْنُ الْحَاذِقِ الْفَهِمِ ❁
حالانکہ وہ خود نہایت ذہین اور سمجھ دار ہے۔
وَيُنْكِرُ الْفَمُ طَعْمَ الْمَاءِ مِنْ سَقَمِ ❁
اور بیمار منہ پانی کے ذائقے کا انکار کرسکتا ہے۔
باب ہفتم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسراء و معراج کے بیان میں
سَعْيًا وَفَوْقَ مُتُونِ الْأَيْنُقِ الرُّسُمِ ❁
پیدل چل کر اور تیز رفتار اونٹنیوں کی پشت پر سوار ہوکر۔
وَمَنْ هُوَ النِّعْمَةُ الْعُظْمَى لِمُغْتَنِمِ ❁
اور غنیمت جاننے والے کے لیے سب سے عظیم نعمت ہیں۔
كَمَا سَرَى الْبَدْرُ فِي دَاجٍ مِنَ الظُّلَمِ ❁
جیسے چودھویں کا چاند گھپ اندھیری رات میں سفر کرتا ہے۔
مِنْ قَابِ قَوْسَيْنِ لَمْ تُدْرَكْ وَلَمْ تُرَمِ ❁
جو قاب قوسین کا مقام ہے، جس تک نہ کوئی پہنچا اور نہ پہنچنے کی آرزو کرسکا۔
وَالرُّسْلِ تَقْدِيمَ مَخْدُومٍ عَلَى خَدَمِ ❁
جیسے خادم اپنے مخدوم کو آگے کرتے ہیں۔
فِي مَوْكِبٍ كُنْتَ فِيهِ صَاحِبَ الْعَلَمِ ❁
ایک ایسے قافلے میں جس کے علم بردار آپ تھے۔
مِنَ الدُّنُوِّ وَلَا مَرْقًى لِمُسْتَنِمِ ❁
جس تک کوئی سبقت کرنے والا پہنچ سکے، نہ بلندی کی کوئی سیڑھی جس پر کوئی چڑھ سکے۔
نُودِيتَ بِالرَّفْعِ مِثْلَ الْمُفْرَدِ الْعَلَمِ ❁
جب آپ کو اسمِ علم کی طرح رفعت کے ساتھ پکارا گیا۔
عَنِ الْعُيُونِ وَسِرٍّ أَيِّ مُكْتَتَمِ ❁
اور ایسا راز پالیں جو انتہائی مخفی تھا۔
وَجُزْتَ كُلَّ مَقَامٍ غَيْرَ مُزْدَحَمِ ❁
اور ہر وہ مقام طے کرلیا جہاں کوئی مزاحمت کرنے والا نہیں۔
وَعَزَّ إِدْرَاكُ مَا أُولِيتَ مِنْ نِعَمِ ❁
اور آپ کو عطا ہونے والی نعمتوں کا ادراک نہایت دشوار ہے۔
مِنَ الْعِنَايَةِ رُكْنًا غَيْرَ مُنْهَدِمِ ❁
عنایتِ الٰہی کا ایک ایسا مضبوط سہارا حاصل ہے جو کبھی منہدم نہیں ہوگا۔
بِأَكْرَمِ الرُّسْلِ كُنَّا أَكْرَمَ الْأُمَمِ ❁
سب رسولوں سے مکرم قرار دیا، تو ہم سب امتوں سے مکرم ہوگئے۔
باب ہشتم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد کے بیان میں
كَنَبْأَةٍ أَجْفَلَتْ غُفْلًا مِنَ الْغَنَمِ ❁
جیسے اچانک آواز غافل بکریوں کو بدکادیتی ہے۔
حَتَّى حَكَوْا بِالْقَنَا لَحْمًا عَلَى وَضَمِ ❁
یہاں تک کہ نیزوں نے انہیں تختے پر رکھے گوشت کی مانند کردیا۔
أَشْلَاءَ شَالَتْ مَعَ الْعِقْبَانِ وَالرَّخَمِ ❁
ان لاشوں کے ٹکڑوں پر جنہیں عقاب اور گدھ اٹھا لے گئے۔
مَا لَمْ تَكُنْ مِنْ لَيَالِي الْأَشْهُرِ الْحُرُمِ ❁
سوائے حرمت والے مہینوں کی راتوں کے۔
بِكُلِّ قَرْمٍ إِلَى لَحْمِ الْعِدَا قَرِمِ ❁
ہر ایسے بہادر کے ساتھ جو دشمنوں کو تہِ تیغ کرنے کا مشتاق تھا۔
يَرْمِي بِمَوْجٍ مِنَ الْأَبْطَالِ مُلْتَطِمِ ❁
جس کی موجیں بہادر جنگجوؤں کی صورت میں ایک دوسرے سے ٹکراتی تھیں۔
يَسْطُو بِمُسْتَأْصِلٍ لِلْكُفْرِ مُصْطَلِمِ ❁
جو کفر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والے ہتھیار سے حملہ آور ہوتا تھا۔
مِنْ بَعْدِ غُرْبَتِهَا مَوْصُولَةَ الرَّحِمِ ❁
اپنی غربت و بے کسی کے بعد پھر اپنے اہل سے جا ملی۔
وَخَيْرِ بَعْلٍ فَلَمْ تَيْتَمْ وَلَمْ تَئِمِ ❁
اور بہترین شوہر کی کفالت میں رہی، پس نہ یتیم ہوئی اور نہ بیوہ۔
مَاذَا رَأَى مِنْهُمُ فِي كُلِّ مُصْطَدَمِ ❁
کہ انہوں نے ہر معرکے میں ان کا کیا حال دیکھا۔
فُصُولَ حَتْفٍ لَهُمْ أَدْهَى مِنَ الْوَخَمِ ❁
وہ دشمنوں کے لیے موت کے ایسے مواقع تھے جو مہلک بیماری سے بھی سخت تھے۔
مِنَ الْعِدَا كُلَّ مُسْوَدٍّ مِنَ اللِّمَمِ ❁
بعد اس کے کہ وہ دشمنوں کے ہر سیاہ بال والے سر میں داخل ہوئی تھیں۔
أَقْلَامُهُمْ حَرْفَ جِسْمٍ غَيْرَ مُنْعَجِمِ ❁
ان کے قلموں نے دشمن کے جسم کا کوئی حرف بے نقطہ نہ چھوڑا۔
وَالْوَرْدُ يَمْتَازُ بِالسِّيمَا عَنِ السَّلَمِ ❁
جیسے گلاب اپنی علامت سے سلم کے درخت سے ممتاز ہوتا ہے۔
فَتَحْسَبُ الزَّهْرَ فِي الْأَكْمَامِ كُلَّ كَمِي ❁
تو تم ہر بہادر کو کلی میں چھپے پھول کی مانند سمجھتے ہو۔
مِنْ شِدَّةِ الْحَزْمِ لَا مِنْ شَدَّةِ الْحُزُمِ ❁
اپنے ارادے کی مضبوطی سے، نہ کہ زین کی مضبوط بندش سے۔
فَمَا تُفَرِّقُ بَيْنَ الْبَهْمِ وَالْبُهَمِ ❁
یہاں تک کہ وہ بھیڑ کے بچوں اور بہادر مردوں میں فرق نہ کرسکے۔
إِنْ تَلْقَهُ الْأُسْدُ فِي آجَامِهَا تَجِمِ ❁
اگر جنگل کے شیر بھی اس سے ملیں تو دبک جائیں۔
بِهِ وَلَا مِنْ عَدُوٍّ غَيْرَ مُنْقَصِمِ ❁
اور نہ ایسا دشمن جو ٹوٹ نہ گیا ہو۔
كَاللَّيْثِ حَلَّ مَعَ الْأَشْبَالِ فِي أَجَمِ ❁
جیسے شیر اپنے بچوں کے ساتھ جنگل میں رہتا ہے۔
فِيهِ وَكَمْ خَصَمَ الْبُرْهَانُ مِنْ خَصِمِ ❁
اور کتنے ہی مخالفوں کو دلیل نے شکست دی۔
فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالتَّأْدِيبِ فِي الْيُتُمِ ❁
اور یتیمی میں حسنِ ادب سے آراستہ ہونا، تمہارے لیے کافی معجزے ہیں۔
باب نہم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا کے بیان میں
ذُنُوبَ عُمْرٍ مَضَى فِي الشِّعْرِ وَالْخِدَمِ ❁
جو شاعری اور خدمت میں گزری ہوئی زندگی میں مجھ سے ہوئے۔
كَأَنَّنِي بِهِمَا هَدْيٌ مِنَ النَّعَمِ ❁
گویا میں ان کے سبب قربانی کے جانور کی مانند ہوں۔
حَصَلْتُ إِلَّا عَلَى الْآثَامِ وَالنَّدَمِ ❁
اور گناہ اور ندامت کے سوا کچھ حاصل نہ کیا۔
لَمْ تَشْتَرِ الدِّينَ بِالدُّنْيَا وَلَمْ تَسُمِ ❁
اس نے دنیا کے بدلے دین نہ خریدا اور نہ اس کی قیمت لگائی۔
يَبِنْ لَهُ الْغَبْنُ فِي بَيْعٍ وَفِي سَلَمِ ❁
اس کا خسارہ عام بیع میں بھی اور بیعِ سَلَم میں بھی ظاہر ہوجائے گا۔
مِنَ النَّبِيِّ وَلَا حَبْلِي بِمُنْصَرِمِ ❁
اور نہ میری رسی منقطع ہونے والی ہے۔
مُحَمَّدًا وَهْوَ أَوْفَى الْخَلْقِ بِالذِّمَمِ ❁
اور آپ تمام مخلوق میں عہد پورا کرنے والے سب سے زیادہ ہیں۔
فَضْلًا وَإِلَّا فَقُلْ يَا زَلَّةَ الْقَدَمِ ❁
تو پھر کہو کہ قدم کی کتنی بڑی لغزش ہے۔
أَوْ يَرْجِعَ الْجَارُ مِنْهُ غَيْرَ مُحْتَرَمِ ❁
یا آپ کی پناہ میں آنے والا بے عزت ہوکر واپس جائے۔
وَجَدْتُهُ لِخَلَاصِي خَيْرَ مُلْتَزِمِ ❁
میں نے آپ کو اپنی نجات کے لیے بہترین ضامن پایا۔
إِنَّ الْحَيَا يُنْبِتُ الْأَزْهَارَ فِي الْأَكَمِ ❁
کیونکہ بارش بلند ٹیلوں پر بھی پھول اگا دیتی ہے۔
يَدَا زُهَيْرٍ بِمَا أَثْنَى عَلَى هَرِمِ ❁
جسے زہیر کے ہاتھوں نے ہرم کی مدح کرکے حاصل کیا تھا۔
باب دہم
مناجات اور حاجات پیش کرنے کے بیان میں
سِوَاكَ عِنْدَ حُلُولِ الْحَادِثِ الْعَمِمِ ❁
جس کی میں اس ہمہ گیر ہولناک مصیبت کے وقت آپ کے سوا پناہ لوں۔
إِذَا الْكَرِيمُ تَجَلَّى بِاسْمِ مُنْتَقِمِ ❁
جب کریم ذات اپنے نامِ منتقم کے ساتھ جلوہ فرمائے گی۔
وَمِنْ عُلُومِكَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ ❁
اور لوح و قلم کا علم بھی آپ کے علوم میں سے ہے۔
إِنَّ الْكَبَائِرَ فِي الْغُفْرَانِ كَاللَّمَمِ ❁
کیونکہ مغفرت کے مقابلے میں کبیرہ گناہ بھی صغیرہ گناہوں کی مانند ہیں۔
تَأْتِي عَلَى حَسَبِ الْعِصْيَانِ فِي الْقِسَمِ ❁
تو میرے گناہوں کی مقدار کے مطابق مجھے رحمت کا حصہ عطا فرمائے۔
لَدَيْكَ وَاجْعَلْ حِسَابِي غَيْرَ مُنْخَرِمِ ❁
اور میرے حساب کو خراب نہ فرما۔
صَبْرًا مَتَى تَدْعُهُ الْأَهْوَالُ يَنْهَزِمِ ❁
جب ہولناکیاں اسے پکارتی ہیں تو شکست کھا جاتا ہے۔
عَلَى النَّبِيِّ بِمُنْهَلٍّ وَمُنْسَجِمِ ❁
کہ وہ نبی پر موسلا دھار اور مسلسل برستے رہیں۔
وَأَطْرَبَ الْعِيسَ حَادِي الْعِيسِ بِالنَّغَمِ ❁
اور اونٹوں کا ساربان اپنے نغمے سے اونٹوں کو سرمست کرتا رہے۔
وَعَنْ عَلِيٍّ وَعَنْ عُثْمَانَ ذِي الْكَرَمِ ❁
اور علی اور عثمان صاحبِ کرم سے بھی۔
أَهْلُ التُّقَى وَالنَّقَى وَالْحِلْمِ وَالْكَرَمِ ❁
تقویٰ، پاکیزگی، بردباری اور کرم والے ہیں۔
وَاغْفِرْ لَنَا مَا مَضَى يَا وَاسِعَ الْكَرَمِ ❁
اور اے وسیع کرم والے! ہمارے گزشتہ گناہوں کو بخش دے۔
يَتْلُونَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَفِي الْحَرَمِ ❁
جو وہ مسجدِ اقصیٰ اور حرم میں کرتے ہیں۔
وَاسْمُهُ قَسَمٌ مِنْ أَعْظَمِ الْقَسَمِ ❁
اور جن کا نام عظیم ترین قسموں میں سے ایک ہے۔
وَالْحَمْدُ لِلَّهِ فِي بَدْءٍ وَفِي خَتَمِ ❁
اور ابتدا و انتہا میں تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔
فَرِّجْ بِهَا كَرْبَنَا يَا وَاسِعَ الْكَرَمِ ❁
پس اے وسیع کرم والے! اس کے وسیلے سے ہماری پریشانی دور فرما۔
ویڈیو

قصیدہ بردہ کے بارے میں
امام بوصیری
امام بوصیری، جن کا پورا نام ابو عبد اللہ شرف الدین محمد بن سعید البوصیری الصنہاجی تھا، ایک نامور شاعر، عالم اور نعتیہ شاعری کے ممتاز امام تھے۔ آپ بنو حبنم سے تعلق رکھتے تھے، جو شمالی افریقہ کے بربر قبیلہ صنہاجہ کی ایک بڑی شاخ تھی۔ منقول ہے کہ آپ 608ھ/1211ء میں دَلَّس (عربی: دلّس؛ بربر: Delles) میں پیدا ہوئے، جو موجودہ شمالی الجزائر میں بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ بعد ازاں آپ مصر میں سکونت پذیر ہوئے، جہاں 691ھ/1294ء میں آپ کا وصال ہوا اور اسکندریہ میں مدفون ہوئے۔
علم و تحصیل
بچپن میں قرآنِ کریم حفظ کرنے کے بعد امام بوصیری تحصیلِ علومِ اسلامیہ کے لیے قاہرہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے اپنے عہد کے ممتاز علماء میں مقام حاصل کیا اور متعدد اسلامی علوم میں مہارت حاصل کی، جن میں عربی زبان و نحو، لغت و ادب، اسلامی تاریخ، تفسیرِ قرآن، علمِ کلام، منطق، مناظرہ اور سیرتِ نبوی شامل تھے۔
اللہ تعالیٰ نے امام بوصیری کو فنِ خطاطی میں غیر معمولی مہارت عطا فرمائی تھی اور ابتدا میں آپ کتبے اور تحریری نقوش لکھ کر اپنی معاشی ضروریات پوری کرتے تھے۔ آپ کا خوبصورت خط بہت مشہور ہوا اور بہت سے لوگ یہ فن سیکھنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔
ایک عالم کی حیثیت سے آپ کی شہرت نے بہت سے طلبہ کو آپ کی طرف متوجہ کیا۔ ان میں مشہور مفسرِ قرآن اور عربی نحوی ابو حیان الغرناطی اور امام محمد بن محمد الیعمری، جو امام فتح الدین ابن سید الناس کے نام سے معروف ہیں، شامل تھے۔ مؤخر الذکر اپنے زمانے کے ممتاز محدثین میں سے تھے اور نبی کریم ﷺ کی معروف سیرت کے مصنف بھی تھے۔
سرکاری خدمات
علم و شاعری کے لیے مکمل طور پر وقف ہونے سے قبل امام بوصیری نے مصر میں متعدد انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ اس عرصے میں بعض سرکاری اہلکاروں کی بدعنوانی اور نامناسب طرزِ عمل دیکھ کر آپ سرکاری زندگی سے بددل ہوگئے۔ آپ نے طنزیہ شاعری کے ذریعے ان کے رویوں پر تنقید کی، جس کے باعث بعض بااثر افراد آپ کے مخالف ہوگئے اور بالآخر آپ نے سرکاری ملازمت مکمل طور پر ترک کردی۔
قاہرہ واپس آکر آپ نے کچھ عرصہ بچوں کو تعلیم دی، پھر مستقل طور پر اسکندریہ میں سکونت اختیار کرلی، جہاں آپ نے اپنی باقی زندگی گزاری۔
روحانی تربیت
اگرچہ امام بوصیری علومِ ظاہری میں ممتاز مقام رکھتے تھے، لیکن آپ کی زندگی پر سب سے گہرا اثر شیخ ابو العباس المرسی کی صحبت و تربیت کا پڑا۔ انہوں نے آپ کو اپنے مرید کی حیثیت سے قبول کیا اور سلسلۂ شاذلیہ میں داخل فرمایا۔ شیخ ابو العباس، امام ابو الحسن الشاذلی کے ممتاز ترین شاگرد اور جانشین تھے، جو طریقۂ شاذلیہ کے بانی ہیں۔
اس زمانے میں اسکندریہ اسلامی علوم اور تصوف کے اہم ترین مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ یہیں امام بوصیری نے شیخ ابو العباس المرسی کی خدمت میں حاضری دی اور ان کی رہنمائی میں طریقۂ شاذلیہ اختیار کیا۔
اپنے شیخ کی تربیت میں امام بوصیری کی روحانی زندگی میں گہری تبدیلی آئی۔ شیخ ابو العباس المرسی سے آپ کی محبت و عقیدت آپ کی شاعری میں بھی نمایاں ہے۔ آپ کی معروف نظموں میں سے ایک میں امام ابو الحسن الشاذلی اور ان کے بعد شیخ ابو العباس المرسی کی جانشینی دونوں کی مدح کی گئی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اپنے شیخ کی تربیت کے ذریعے آپ کے دل میں نبی کریم محمد ﷺ کی شدید محبت، شوق اور وابستگی پیدا ہوئی، جو بعد میں آپ کی نعتیہ شاعری کی نمایاں ترین خصوصیت اور شاذلی روایت کا ایک اہم پہلو بن گئی۔
ایک حیرت انگیز پیش گوئی
امام بوصیری کی زندگی سے متعلق مشہور روایات میں سے ایک شیخ ابو العباس المرسی کی غیر معمولی فراست کے بارے میں ہے۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ وہ شیخ عز الدین بن عبد السلام، شیخ ابن عطاء اللہ الاسکندری اور امام بوصیری کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ انہوں نے باری باری ہر ایک کی طرف متوجہ ہوکر بتایا کہ اللہ تعالیٰ انہیں مستقبل میں کیا عطا فرمائے گا۔
شیخ عز الدین سے فرمایا کہ وہ اپنے زمانے کے سب سے بڑے علماء میں شمار ہوں گے۔ شیخ ابن عطاء اللہ کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انہیں عظیم حکمت عطا فرمائے گا۔ آخر میں امام بوصیری کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کی شاعری کو پوری دنیا میں شہرت عطا فرمائے گا۔
روایت کے مطابق یہ تینوں پیش گوئیاں پوری ہوئیں۔ شیخ عز الدین بن عبد السلام اپنے زمانے کے ممتاز فقہاء، متکلمین اور مجتہدین میں شمار ہوئے اور اپنے عہد کے شافعی علماء میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ شیخ ابن عطاء اللہ الاسکندری کی تصانیف، خصوصاً ان کی الحکم، علمِ تصوف کی مؤثر ترین کتابوں میں شمار ہونے لگیں۔ اسی طرح امام بوصیری کی شاعری عالمِ اسلام میں پھیل گئی اور قصیدہ بردہ اسلامی روایت کے مشہور ترین، کثرت سے پڑھے جانے والے اور سب سے زیادہ شرح کیے جانے والے نعتیہ قصائد میں شامل ہوگیا۔
زندگی کا ایک اہم موڑ
امام بوصیری کی زندگی کے متعدد واقعات ان کے روحانی سفر کے اہم مراحل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان میں شاید سب سے اہم واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ کو ایک صاحبِ حیثیت شخص کی مدح میں قصیدہ لکھنے کے لیے کہا گیا۔ راستے میں ایک نامعلوم شخص آپ سے ملا اور پوچھا کہ کیا آپ نے کبھی نبی کریم ﷺ کی زیارت کی ہے؟ امام بوصیری نے جواب دیا کہ نہیں، جس پر وہ شخص وہاں سے چلا گیا۔
اس ملاقات نے آپ پر گہرا اثر ڈالا۔ آپ گھر واپس آئے اور سوچنے لگے کہ انہیں اب تک نبی کریم ﷺ کی زیارت کی سعادت کیوں حاصل نہیں ہوئی۔ اسی رات آپ نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ بیدار ہونے کے بعد آپ نے عزم کیا کہ آئندہ اپنی شاعری دنیاوی حکمرانوں کی مدح کے لیے وقف نہیں کریں گے، بلکہ اپنی اس صلاحیت کو نبی کریم محمد ﷺ کی مدح کے لیے مخصوص کردیں گے۔
حج اور شاعری کا ارتقا
امام بوصیری نے 653ھ/1255ء میں حج ادا کیا۔ یہ سفر آپ کی روحانی زندگی میں ایک اور اہم مرحلہ ثابت ہوا۔ آپ کی شاعری میں تین واضح ادوار دیکھے جاسکتے ہیں: حج سے پہلے، حج کے دوران اور حج کے بعد۔
حج سے قبل آپ کی بہت سی نظموں میں نبی کریم ﷺ کی زیارت کا شوق اور مدینہ منورہ پہنچنے کی آرزو نمایاں تھی۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کے دوران آپ نے ایسے اشعار کہے جن میں حرمین شریفین کی زیارت، نبی کریم ﷺ کے جوار میں قیام اور ان مقامات کی حاضری کی خوشی بیان کی گئی جو آپ ﷺ کی مبارک موجودگی سے مشرف ہوئے تھے۔ حج کے بعد آپ کی شاعری نے نعتیہ قصیدہ گوئی کی ایک پختہ صورت اختیار کرلی اور آپ کی توجہ تقریباً مکمل طور پر نبی کریم ﷺ کی مدح کی جانب ہوگئی۔ اسی دور میں آپ نے وہ شاہکار تخلیق کیا جس سے آپ سب سے زیادہ مشہور ہوئے، یعنی قصیدہ بردہ۔
ادبی ورثہ
امام بوصیری نے نبی کریم محمد ﷺ کی مدح میں متعدد نعتیہ قصائد تحریر کیے، جن میں قصیدہ بردہ، قصیدہ ہمزیہ، قصیدہ مضریہ اور قصیدہ محمدیہ سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ ان میں قصیدہ بردہ نے سب سے زیادہ اثر و مقبولیت حاصل کی۔ اس نے علماء، شعراء اور محبانِ رسول ﷺ کی کئی نسلوں کو متاثر کیا اور آج بھی اسلامی روایت میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور شرح کیے جانے والے نعتیہ قصائد میں شمار ہوتا ہے۔
قصیدہ بردہ کی تصنیف
قصیدہ بردہ کی تصنیف کے حالات کے بارے میں متعدد روایات منقول ہیں۔ ان میں ایک معروف روایت امام عبد الرحمن الکتبی نے نقل کی ہے، جو یہ واقعہ براہِ راست امام بوصیری سے روایت کرتے ہیں۔
اس سے زیادہ تفصیلی روایت شیخ عبد الرحمن بن محمد، المعروف ابن مقلاش الوہرانی نے اپنی شرحِ بردہ میں محفوظ کی ہے۔ پہلی روایت کے برخلاف ان کی روایت میں مکمل سند بھی موجود ہے اور امام بوصیری کے خواب سے متعلق مزید تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔
ابن مقلاش الوہرانی، ابو علی الحسن بن حسن بن بادیس القسنطینی سے، وہ اپنے والد ابو القاسم بن بادیس سے، وہ حافظ ابو محمد عبد الوہاب بن یوسف سے اور وہ براہِ راست صاحبِ قصیدہ امام بوصیری سے روایت کرتے ہیں۔
امام بوصیری بیان فرماتے ہیں:
میں اس سے پہلے بھی نبی کریم ﷺ کی مدح میں متعدد قصائد کہہ چکا تھا، جن میں سے بعض میں نے اپنے دوست زین الدین یعقوب بن الزبیر کے مشورے پر کہے تھے۔
کچھ عرصے بعد مجھے فالج کا عارضہ لاحق ہوگیا جس سے میرے جسم کا ایک پہلو مفلوج ہوگیا۔ بیماری کے دوران میں نے ارادہ کیا کہ یہ قصیدہ لکھوں اور نبی کریم محمد ﷺ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کروں۔ میں بار بار قصیدہ پڑھتا، روتا، دعا کرتا اور اللہ کے محبوب ﷺ کے وسیلے سے اس کی رحمت طلب کرتا رہا۔ بالآخر مجھے نیند آگئی اور میں نے خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت کی۔ آپ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا، اپنی مبارک چادر مجھ پر ڈالی اور تشریف لے گئے۔
جب میں بیدار ہوا تو خود کو مکمل طور پر صحت یاب پایا اور چلنے کے قابل ہوگیا۔ میں بستر سے اٹھا اور کسی کو یہ واقعہ بتائے بغیر گھر سے نکل گیا۔ راستے میں ایک فقیر ملا، جس نے مجھ سے رسول اللہ ﷺ کی مدح میں لکھا ہوا قصیدہ سنانے کو کہا۔ میں نے پوچھا: کون سا قصیدہ؟ اس نے جواب دیا: ”وہی جو آپ نے اپنی بیماری کے دوران لکھا تھا۔“
پھر اس نے قصیدے کا پہلا شعر پڑھا اور کہا: ”اللہ کی قسم! گزشتہ رات میں نے یہ قصیدہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں پڑھتے ہوئے سنا۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ اس سے خوش ہوئے اور اپنی مبارک چادر قصیدہ پڑھنے والے پر ڈال دی۔“
ابن مقلاش الوہرانی کی روایت میں ایک مزید تفصیل بھی محفوظ ہے۔ ان کے مطابق فقیر نے مزید کہا:
”جب آپ اس شعر پر پہنچے:
’ان کے بارے میں ہمارے علم کی انتہا یہی ہے کہ وہ بشر ہیں…‘
تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’آگے پڑھو۔‘
آپ نے عرض کیا کہ ابھی قصیدہ مکمل نہیں ہوا، تو نبی کریم ﷺ نے خود شعر مکمل فرمایا:
’…لیکن وہ اللہ کی تمام مخلوق میں سب سے افضل ہیں۔‘
پھر نبی کریم ﷺ نے اپنی مبارک چادر آپ پر ڈال دی۔“
امام بوصیری آخر میں فرماتے ہیں:
پھر میں نے فقیر کو قصیدہ سنایا۔ اس نے اسے یاد کرلیا اور اپنا خواب دوسروں کو سنایا، جس کے بعد اس خواب کی خبر لوگوں میں تیزی سے پھیل گئی۔
امام بوصیری کی معجزانہ صحت یابی، ان کے خواب اور نبی کریم ﷺ کی جانب سے مبارک چادر عطا کیے جانے کی روایت پورے عالمِ اسلام میں پھیل گئی۔ ان واقعات کی شہرت کے ساتھ قصیدہ بردہ بھی دور دور تک پہنچ گیا۔ صدیوں کے دوران اسے وسیع پیمانے پر پڑھا، حفظ، ترجمہ اور شرح کیا گیا اور یوں یہ نبی کریم محمد ﷺ کی مدح میں لکھے گئے سب سے مشہور نعتیہ قصائد میں اپنا مستقل مقام بنا چکا ہے۔
قصیدے کا نام
امام بوصیری نے ابتدا میں اپنے مشہور قصیدے کا نام الکواکب الدریۃ فی مدح خیر البریۃ رکھا تھا، یعنی ”خیرِ خلائق کی مدح میں درخشاں ستارے“۔ جیسے جیسے قصیدے کی شہرت بڑھی، خصوصاً امام بوصیری کی معجزانہ صحت یابی کی روایات عام ہونے کے بعد، یہ متعدد دوسرے ناموں سے بھی مشہور ہوگیا۔ ان میں سب سے معروف نام قصیدہ بردہ ہے، جبکہ اسے البرأۃ اور البردیۃ بھی کہا جاتا ہے۔
”بردہ“ یعنی چادر کے نام کو حقیقی اور علامتی دونوں معنوں میں سمجھا گیا ہے۔ یہ اس مبارک چادر کی یاد دلاتا ہے جو روایت کے مطابق نبی کریم محمد ﷺ نے خواب میں قصیدہ سننے کے بعد امام بوصیری کو پہنائی تھی۔ اس کی ایک علامتی تشریح یہ بھی کی گئی ہے کہ جس طرح چادر جسم کو ڈھانپ لیتی ہے، اسی طرح یہ قصیدہ نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی، اخلاقِ کریمانہ اور فضائل کے اہم پہلوؤں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
اس کا ایک اور روایتی نام البرأۃ یعنی ”شفا“ ہے، جو قصیدہ لکھنے کے بعد امام بوصیری کے فالج سے صحت یاب ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ البردیۃ یعنی ”چادر کا قصیدہ“ بھی اسی رؤیا کی یادگار ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے امام بوصیری پر اپنی مبارک چادر ڈالی تھی۔
کعب بن زہیر کا قصیدہ بردہ
اگرچہ امام بوصیری کا قصیدہ بردہ ان دونوں میں زیادہ مشہور ہے، لیکن یہ اس نام سے معروف ہونے والا پہلا قصیدہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے صحابیِ رسول حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم محمد ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ایک قصیدہ کہا تھا جو بردہ کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ قصیدہ اپنے ابتدائی الفاظ ”بانت سعاد“ یعنی ”سعاد جدا ہوگئی“ کے نام سے بھی معروف ہے۔ عربی مدحیہ شاعری کی تاریخ میں اسے اہم مقام حاصل ہے اور اس نے ایک ایسا نمونہ قائم کیا جس کی بازگشت بعد میں امام بوصیری کے قصیدہ بردہ میں بھی سنائی دیتی ہے۔
کعب، زہیر بن ابی سلمیٰ کے صاحبزادے تھے، جو زمانۂ جاہلیت کے مشہور ترین شعراء میں شمار ہوتے ہیں۔ زہیر کی شاعری مشہور معلقات میں شامل تھی، یعنی وہ عظیم قصائد جنہیں روایتی طور پر مکہ مکرمہ میں کعبہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ زہیر کا انتقال بعثتِ نبوی سے قبل ہوگیا تھا۔ ان کے دو بیٹے کعب اور بجیر تھے اور دونوں نے اپنے والد کی شعری صلاحیت کا بڑا حصہ ورثے میں پایا تھا۔
بجیر نے اسلام قبول کرکے نبی کریم ﷺ کی نصرت کی، جبکہ کعب نے ابتدا میں اسلام قبول نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے بھائی اور نبی کریم محمد ﷺ کے خلاف ہجویہ اشعار کہے اور اپنی شاعری کے ذریعے ابتدائی مسلم جماعت کے خلاف مخالفت ابھارنے کی کوشش کی۔ بعد میں بجیر فتحِ مکہ اور محاصرۂ طائف کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہے۔ ان شعراء کے انجام سے واقف ہونے کے بعد جنہوں نے نبی کریم ﷺ، ازواجِ مطہرات اور مسلمانوں کی توہین کی تھی، انہوں نے کعب کو خط لکھا، خطرے سے آگاہ کیا اور انہیں توبہ کرکے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کا مشورہ دیا۔
چنانچہ کعب معافی اور امان کے طلبگار ہوکر مدینہ منورہ پہنچے۔ وہ فجر سے کچھ پہلے اس وقت پہنچے جب نبی کریم ﷺ نمازِ فجر کی امامت کے لیے تیاری فرما رہے تھے، اور انہوں نے اپنی پہلی نماز آپ ﷺ کے پیچھے ادا کی۔ نماز کے بعد کعب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کے سامنے بیٹھے اور اپنے ہاتھ آپ ﷺ کے دست ہائے مبارک میں رکھ دیے۔ ابھی انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی تھی۔ انہوں نے تیسرے شخص کے انداز میں اپنے متعلق سوال کیا کہ اگر کعب بن زہیر مسلمان ہوکر، اپنے سابقہ اعمال سے تائب ہوکر اور امان کا طالب بن کر حاضر ہو تو کیا اسے قبول کیا جائے گا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے قبول کیا جائے گا۔ تب کعب نے اپنی شناخت ظاہر کرتے ہوئے کہا: ”میں کعب بن زہیر ہوں۔“
مدینہ منورہ کے سفر کے دوران کعب نے اپنی ندامت اور مدح کے اظہار کے لیے ایک فصیح قصیدہ نظم کیا تھا۔ کلاسیکی عربی شاعری کی روایت کے مطابق انہوں نے اپنی محبوبہ کی جدائی کے ذکر سے قصیدہ شروع کیا:
سعاد جدا ہوگئی اور آج میرا دل کمزور اور رنجیدہ ہے،
اس کی جدائی میں گرفتار اور ایسا پابند کہ رہائی کی کوئی صورت نہیں۔
اس کے بعد قصیدہ روایتی غزلیہ تمہید سے کعب کے خوف، توبہ اور نبی کریم ﷺ کی رحمت و عفو کی امید کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ انہیں جو وعید پہنچی تھی، اس کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:
مجھے خبر دی گئی کہ رسول اللہ نے مجھے وعید سنائی ہے،
مگر رسول اللہ کی بارگاہ میں عفو کی امید رکھی جاتی ہے۔
قصیدے کے اختتام کے قریب کعب نے نبی کریم ﷺ کی مدح میں یہ مشہور الفاظ کہے:
بے شک رسول اللہ وہ نور ہیں جس سے ہدایت حاصل کی جاتی ہے،
اور اللہ کی تلواروں میں سے ایک بے نیام ہندی تلوار ہیں۔
حافظ ابن عبد البر روایت کرتے ہیں کہ جب کعب نے یہ اشعار پڑھے تو نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو توجہ سے سننے کا اشارہ فرمایا۔ دیگر روایات کے مطابق اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے اپنی مبارک یمنی چادر کعب کو عطا فرمائی۔ یہ عطیہ علانیہ طور پر کعب کی معافی، قبولیت اور رسول اللہ ﷺ کی امان میں داخل ہونے کی علامت تھا۔
کعب نے یہ چادر اپنی باقی زندگی محفوظ رکھی۔ روایت ہے کہ بعد میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کے عوض دس ہزار درہم پیش کیے، مگر کعب نے انکار کردیا۔ کعب کے انتقال کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ورثاء سے یہ مبارک چادر بیس ہزار درہم میں خرید لی۔
کعب کے بردہ اور امام بوصیری کے بردہ کا تعلق محض مشترک نام تک محدود نہیں۔ دونوں قصائد توبہ، نجات، مدحِ رسول ﷺ اور آپ ﷺ کی مبارک چادر عطا کیے جانے سے وابستہ ہیں۔ کعب کو نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں حقیقتاً چادر عطا ہوئی، جبکہ تقریباً ساڑھے چھ صدیوں بعد امام بوصیری کو نبی کریم ﷺ کی مدح میں قصیدہ لکھنے کے بعد خواب میں اسی نوعیت کے اعزاز سے نوازے جانے کی روایت ملتی ہے۔ یہی حیرت انگیز مماثلت دونوں قصائد کے درمیان گہرے تاریخی اور روحانی تعلق کو واضح کرتی ہے۔
قصیدے کی ساخت
قصیدہ بردہ عربی نعتیہ قصیدہ گوئی کی روایت سے تعلق رکھتا ہے۔ اسلوب اور ساخت دونوں اعتبار سے یہ کلاسیکی عربی قصیدے کے مسلمہ اصولوں کی پیروی کرتا ہے اور ابتدائی عرب شعراء کی قائم کردہ ادبی روایت کی عکاسی کرتا ہے۔
اس صنف کے بہت سے قصائد کی طرح قصیدہ بردہ کی روایتی ساخت بھی چار بنیادی موضوعات پر قائم ہے:
- غزلیہ تمہید (نسیب)
- نفس کی ملامت اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف
- نبی کریم ﷺ کی مدح
- دعا اور صلوٰۃ و سلام
یہ قصیدہ 160 اشعار پر مشتمل ہے۔ ہر شعر دو مصرعوں میں تقسیم ہے جن کے درمیان ایک فطری وقفہ ہوتا ہے۔ اجتماعی محافل میں قصیدہ پڑھتے وقت روایتی طور پر ہر شعر کے درمیان ایک لازمہ پڑھا جاتا ہے۔ قصیدے کا ہر شعر عربی حرف میم (م) پر ختم ہوتا ہے، جس سے اس کی مخصوص یکساں قافیہ بندی قائم ہوتی ہے۔
قصیدہ بردہ کے فضائل
سات صدیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود قصیدہ بردہ پورے عالمِ اسلام میں مساجد، گھروں، خانقاہوں اور مجالسِ ذکر میں پڑھا جاتا رہا ہے۔ متعدد علماء نے نبی کریم محمد ﷺ کی محبت کے بلیغ اظہار کے باعث اس قصیدے کی تعریف کی ہے اور اس کی تلاوت سے منسوب برکات کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔
قصیدہ بردہ کے منقول فضائل میں یہ امور شامل ہیں:
- جس جگہ اسے پڑھا جائے وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت کی امید رکھنا۔
- گناہوں کی مغفرت اور روحانی درجات کی بلندی کی امید کرنا۔
- نبی کریم محمد ﷺ سے محبت اور تعلق کو مضبوط کرنا۔
- خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت کی سعادت کی امید رکھنا۔
- نبی کریم ﷺ سے محبت اور اللہ تعالیٰ سے دعا کے ذریعے پریشانی، سختی اور غم سے نجات طلب کرنا۔
نسلوں سے مسلمان انفرادی اور اجتماعی طور پر قصیدہ بردہ کو رسول اللہ ﷺ سے محبت کے اظہار کے طور پر پڑھتے آئے ہیں۔ اسے پڑھنے والا ایک اعتبار سے امام بوصیری کے نقشِ قدم پر چلتا ہے، جنہوں نے اپنی شعری صلاحیت کو نبی کریم ﷺ کی مدح کے لیے وقف کیا اور آپ ﷺ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت طلب کی۔ متعدد علماء نے ایسے لوگوں کے واقعات بھی نقل کیے ہیں جنہیں اس قصیدے کی تلاوت کے ذریعے روحانی برکات حاصل ہوئیں۔ یہ روایات اس وسیع روحانی و نعتیہ روایت کا حصہ بن چکی ہیں جو عالمِ اسلام میں قصیدہ بردہ کے گرد پروان چڑھی ہے۔
نبی کریم ﷺ کی زیارت
قصیدہ بردہ کے سب سے زیادہ بیان کیے جانے والے فضائل میں سے ایک نبی کریم ﷺ کی زیارت کی سعادت حاصل ہونے کی امید ہے۔ بہت سے شارحین نے ایسے افراد کے واقعات نقل کیے ہیں جنہوں نے اخلاص کے ساتھ باقاعدگی سے قصیدہ پڑھنے اور علماء کے بیان کردہ آداب کی رعایت کرنے کے بعد خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت کی۔ نبی کریم ﷺ کی زیارت، خواہ خواب میں ہو یا ان لوگوں کے لیے جنہیں اللہ تعالیٰ خصوصی فضل سے بیداری میں یہ سعادت عطا فرمائے، طویل عرصے سے مومن کو عطا ہونے والی عظیم ترین نعمتوں میں شمار کی جاتی رہی ہے۔
ایسی زیارت کی عظمت کے پیش نظر متعدد شارحین نے کچھ ایسی شرائط اور آداب بیان کیے ہیں جنہیں انہوں نے اس سعادت کے حصول میں معاون سمجھا ہے۔ مثال کے طور پر امام خربوتی قصیدہ بردہ کے ذریعے نبی کریم ﷺ کی زیارت کی امید رکھنے والوں کے لیے آٹھ شرائط بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق قاری کو چاہیے کہ:
- باوضو ہو۔
- پوری تلاوت کے دوران قبلہ رخ رہے۔
- قصیدہ صحیح تلفظ اور تجوید کے ساتھ پڑھے۔
- ہر شعر کا مفہوم جانتا ہو۔
- پورا قصیدہ حفظ ہو۔
- خوش الحانی سے پڑھے۔
- کسی ایسے شیخ یا صاحبِ اجازت سے قصیدہ پڑھنے کی اجازت حاصل ہو جس کی سند امام بوصیری تک متصل ہو۔
- ہر شعر کے بعد، یا کم از کم ہر دس اشعار کے بعد، لازمہ پڑھے۔
امام خربوتی ان آداب کی اہمیت واضح کرنے کے لیے امام غزنوی کا واقعہ نقل کرتے ہیں۔ امام غزنوی ہر رات قصیدہ بردہ اس امید سے پڑھتے تھے کہ خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت نصیب ہو، لیکن انہیں یہ سعادت حاصل نہیں ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے اپنے شیخ، شیخ کامل، سے مشورہ کیا۔ شیخ نے فرمایا کہ ممکن ہے آپ بیان کردہ تمام شرائط کی رعایت نہ کررہے ہوں۔
امام غزنوی نے عرض کیا کہ وہ ہر شرط کی پوری پابندی کرتے ہیں۔ اس پر شیخ کامل ایک مرتبہ ان کی قراءت کے دوران ان کے پاس بیٹھے اور بالآخر وہ چیز معلوم کرلی جو رہ گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ امام غزنوی قصیدہ بردہ کا وہ لازمہ نہیں پڑھ رہے تھے جس کے ذریعے امام بوصیری خود نبی کریم ﷺ پر صلوٰۃ و سلام بھیجا کرتے تھے۔
امام خربوتی اپنی شرح میں مزید چند اشعار کا ذکر کرتے ہیں جنہیں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی زیارت کی امید رکھنے والوں کے لیے بالخصوص مفید قرار دیا ہے۔ ان میں یہ اشعار شامل ہیں:
تم اپنی محبت کا انکار کیسے کرسکتے ہو جبکہ دو عادل گواہوں،
تمہارے آنسوؤں اور تمہاری بیماری نے اس کی گواہی دے دی ہے؟ (6)
آپ ﷺ صورت و سیرت میں تمام انبیاء سے بڑھ گئے،
علم اور کرم میں کوئی بھی آپ ﷺ کے قریب نہ پہنچ سکا۔ (38)
اور سب رسول اللہ ﷺ ہی سے فیض کے طلبگار ہیں،
کوئی سمندر سے چلو بھر لیتا ہے اور کوئی مسلسل برسنے والی بارش سے ایک گھونٹ۔ (39)
کیا ہی عظیم ہے اس نبی ﷺ کی صورت جسے حسنِ اخلاق نے آراستہ کیا،
حسن میں لپٹی ہوئی اور روشن مسکراہٹ سے ممتاز۔ (54)
امام باجوری بھی نبی کریم ﷺ کی زیارت کے حصول کے حوالے سے قصیدہ بردہ کے فضائل بیان کرتے ہیں۔ بالخصوص وہ آٹھویں شعر کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جو شخص نمازِ عشاء کے بعد اسے کثرت سے پڑھے اور پڑھتے پڑھتے سو جائے، اسے اللہ کے اذن سے خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت نصیب ہوسکتی ہے:
ہاں، رات کو میرے محبوب کا خیال آیا اور مجھے بیدار رکھا،
کیونکہ محبت ہر لذت کو درد سے ملا دیتی ہے۔ (8)
دیگر منقول فوائد
مذکورہ فضائل کے علاوہ علماء نے قصیدہ بردہ کی باقاعدہ تلاوت سے منسوب بعض دیگر فوائد بھی نقل کیے ہیں۔ روایتی کتب میں مذکور روایات میں یہ باتیں شامل ہیں:
- جس گھر میں روزانہ قصیدہ بردہ پڑھا جائے، اس کے متعلق بہت سی سختیوں سے حفاظت کی امید بیان کی گئی ہے۔
- جس گھر میں یہ قصیدہ رکھا جائے، اس کے متعلق چوروں اور دیگر خطرات سے حفاظت کی روایت منقول ہے۔
- جو مسافر روزانہ ایک مرتبہ قصیدہ بردہ پڑھے، اس کے لیے سفر کی مشکلات سے حفاظت کی امید بیان کی گئی ہے۔
- جس گھر میں قصیدہ بردہ باقاعدگی سے پڑھا جائے، اس کے بارے میں سات آفات سے حفاظت کی روایت منقول ہے: جنات کی ایذا، طاعون اور وبائیں، چیچک، آنکھوں کی بیماریاں، مصیبت، جنون اور اچانک موت۔
قصیدہ بردہ کے ابواب
قصیدہ بردہ دس ابواب میں تقسیم ہے، جو قاری کو ایک منظم روحانی سفر سے گزارتے ہیں۔ قصیدے کی ابتدا امام بوصیری کی نبی کریم محمد ﷺ سے گہری محبت اور شوق کے اظہار سے ہوتی ہے، جس کے بعد وہ نفس کی ملامت، توبہ اور نفسِ امارہ کے خلاف مجاہدے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
درمیانی ابواب میں نبی کریم ﷺ کی مدح اور آپ ﷺ کی مبارک زندگی سے متعلق اہم واقعات اور موضوعات بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ اور فضائل، ولادتِ مبارکہ، آپ ﷺ کے ہاتھوں ظاہر ہونے والے معجزات، قرآنِ کریم کی عظمت، اسراء و معراج اور اللہ کی راہ میں آپ ﷺ کا جہاد شامل ہیں۔ اس اعتبار سے قصیدہ بردہ روایتی میلاد کے ادب سے مانوس ایک اسلوب کی پیروی کرتا ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ، رسالت اور فضائل کا ذکر کیا جاتا ہے۔
قصیدے کے اختتام پر امام بوصیری مدح سے دعا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اپنی کوتاہیوں اور گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے وہ روزِ قیامت نبی کریم ﷺ کی شفاعت کے طالب ہوتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک پُرسوز مناجات کے ساتھ قصیدہ ختم کرتے ہیں، کیونکہ نجات کی آخری امید اسی کی رحمت میں ہے۔
قصیدہ بردہ کے دس ابواب یہ ہیں:
- شوق اور فراقِ محبت کا بیان
- خواہشاتِ نفس سے خبردار کرنا
- نبی کریم ﷺ کی مدح
- نبی کریم ﷺ کی ولادتِ مبارکہ
- نبی کریم ﷺ کے معجزات
- قرآنِ کریم کے فضائل و محاسن
- نبی کریم ﷺ کا اسراء و معراج
- نبی کریم ﷺ کا جہاد
- نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ کا قرب طلب کرنا
- مناجات اور حاجات کی پیش کش
اضافی اشعار
قصیدہ بردہ کے اصل متن کے بعد سات ایسے اشعار بھی پڑھے جاتے ہیں جو بعد کے زمانے میں شامل کیے گئے اور عالمِ اسلام کے بعض علاقوں میں روایتی طور پر قصیدے کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں۔ ان میں خلفائے راشدین، اہلِ بیتِ نبوی ﷺ، صحابہ کرام، تابعین اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا اور مغفرت کی دعا کی گئی ہے۔
ان اضافی اشعار کا اختتام اللہ تعالیٰ کی حمد اور ایک آخری دعا پر ہوتا ہے، جس میں قصیدہ بردہ کے 160 اشعار کی برکت اور اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل کے وسیلے سے مشکلات دور ہونے اور دعاؤں کی قبولیت کی درخواست کی جاتی ہے۔
دیگر تصانیف
قصیدہ بردہ کے علاوہ امام بوصیری کے مشہور قصائد میں قصیدہ مضریہ، قصیدہ محمدیہ اور قصیدہ ہمزیہ شامل ہیں۔
قصیدہ مضریہ نبی کریم محمد ﷺ پر صلوٰۃ و سلام کے موضوع پر ایک معروف نعتیہ قصیدہ ہے۔ اس میں امام بوصیری اللہ تعالیٰ سے نبی کریم ﷺ، آپ کے اہلِ بیت، صحابہ کرام، تمام انبیاء و رسل اور امتِ مسلمہ پر کثرت سے رحمتیں اور برکتیں نازل فرمانے کی دعا کرتے ہیں۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ صلوٰۃ و سلام آسمانوں اور زمین میں موجود بے شمار جاندار و بے جان مخلوقات کی تعداد کے برابر بڑھتے رہیں۔ قصیدے کے اختتام پر وہ اپنے لیے، تمام مسلمانوں، ان کے والدین، اہلِ خانہ، پڑوسیوں اور تمام اہلِ ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی پُرسوز دعا کرتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ سب اس کی رحمت کے محتاج ہیں۔
قصیدہ محمدیہ امام بوصیری کے بڑے قصائد میں سب سے مختصر ہے۔ یہ سولہ اشعار پر مشتمل ہے اور ہر مصرع اسمِ مبارک ”محمد ﷺ“ سے شروع ہوتا ہے۔ اس قصیدے میں نبی کریم ﷺ کی صفاتِ کریمہ، فضائل اور منفرد مقام کا بیان ہے۔ اس کے سادہ مگر پُراثر اسلوب نے اسے امام بوصیری کی محبوب ترین تخلیقات میں شامل کردیا ہے۔
قصیدہ ہمزیہ، جس کا مکمل نام ام القریٰ فی مدح خیر الوریٰ ہے، امام بوصیری کے طویل ترین اور جامع ترین نعتیہ قصائد میں سے ایک ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی، معجزات، اخلاقِ کریمانہ اور بلند مرتبے کا بیان ہے۔ قصیدہ بردہ کی طرح یہ بھی صدیوں سے عالمِ اسلام میں پڑھا اور اس کا درس دیا جاتا رہا ہے۔
یہ تمام قصائد مجموعی طور پر نبی کریم محمد ﷺ سے امام بوصیری کی گہری محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔ بلیغ مدح، کثرتِ صلوٰۃ و سلام اور پُرسوز مناجات کے ذریعے یہ کلام آج بھی مسلمانوں کی نسلوں کو رسول اللہ ﷺ سے اپنی محبت کو گہرا کرنے اور آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔